جہاد اکبر

انگریزی زبان کی ایک بہت مشہور ضرب المثل ہے

DO what you love

love what you do

اگر ہم اس ضرب المثل کا اردو میں ترجمعہ کرنا چاہیں تو کچھ اس طرح کریں گے کہ

آپ وہ پیشہ اختیار کریں جس سے آپ کو فطری محبت ہو

یا پھر آپکی قسمت نے آپ کو جس پیشہ سے بھی منسلک کردیا آپ اسے ہی اپنی محبت بنالیں

میں جب بھی اس انگریزی کہاوت کے بارے میں سوچتا ہوں تو میرے دل میں یہ ہی خیال آتا ہے کہ  انگریزوں یا پھر ترقی یافتہ ممالک کے لوگوں کے لیے شاید اس پر عمل کرنا آسان ہو وہ معاشرہ اور ہے انکا زندگی کو دیکھنے کا زاویہ ہم سے بہت مختلف ہے

ھمارے معاشرہ ہماری ترجیہات اور ہیں

ہم فرائض اور زمہ داریوں کے بیچ جینے والی قوم ہیں جس پہ مجھے فخر ہے

ہمارے معاشرے جب کوئی بیٹا یا بیٹی جوان ہوتے ہیں تو انکی آولین کوشش یہ ہوتی کسی طرح محنت کرکے اپنے ماں باپ کا سہارہ بنے جن ماں باپ نے مزدوریاں کرکے دن رات کی تکلیفیں اٹھا کر انکی پرورش کی ان کو پالا پوسا اب یہ وقت ہے کہ وہ انکو کچھ معاشی سکون اور خوشیاں دے سکے اور پھر وہ یہ نہیں دیکھتے کہ وہ کیا چاہتے ہیں بس وہ یہ دیکھتے ہیں کہ وہ کس طرح اپنے گھر میں خوشحالی لا سکتے ہیں اگر میں پردیس کی مثال دوں تو میں نے کئی ایسے نوجوانوں کو دیکھا ہے جو ماں باپ کی آنکھ کے تارے گھر کے لاڈلے ایسے جنہوں نے کبھی شاہد اپنے گھر میں اٹھ کر ایک گلاس پانی نہ پیا ہو ایسے نوجوانوں کو میں پردیس میں نے مزدور ڈرائیور اور رسٹورنٹ میں ویٹر تک بنے دیکھا اور اگر ان سے سوال کیا جائے اتنی سخت محنت کا مزدوری کا اس اعصاب شکن محنت کا تو جواب بس ایک ہی آتا ہے اور وہ بس لاجواب کردیتا ہے

کہ اگر ایک انسان کی پردیس میں تکلیف اٹھانے سے اگر اپنے وطن میں پانچ سے ساتھ  افراد  عزت اور سکون سے زندگی گزار رہیے ہیں تو کیا برائی ہے اس تکلیف میں

یہ تو پردیس کی بات ہوئی ہمارے  ملک میں بھی ایسے لوگوں کی کمی نہیں ہے  تو میں بات کرہا تھا کہ ہم فرائض اور زمہ داریوں کے بیچ جینے والے لوگ ہیں ہمارے لیے ہمارا شوق اتنا اہمیت نہیں رکھتا جتنے ہمارے لیے ہمارے فرائض اہم ہوتے ہیں ان تمام حقائق کے ساتھ ساتھ میں کئی ایسے لوگوں کو بھی جانتا ہوں جو اپنے فرائض بھی نبھارہے ہیں اور اپنا شوق بھی پورا کر رہے ہیں جو بزنس مین ہیں اور اچھے شاعر بھی ہیں ویٹر ہونے کے ساتھ ساتھ گٹار بھی اچھا بجا لیتے ہیں بنک کی نوکری کرتے ہیں  اور اچھے خاصے ادیب بھی  ہیں

تو میں اپنے نوجوانوں سے بھی یہ ہی کہونگا کہ آپ بھی اگر کوئی خواب رکھتے ہیں تو رکھیں خواب دیکھنا کوئی بوری بات نہیں پر اپنے فرائیض کو نہ بھولیں سب سے پہلے اپنے ماں باب کا سہارہ بنیں محنت کریں انھیں خوشیاں دیں اور ساتھ ساتھ اپنے شوق کو بھی ساتھ لیکر چلیں

کیونکہ

کوئی بھی آدمی اس وقت تک بڑا نہیں بن سکتا جب تک کے وہ ایک اچھا انسان نہ بنے

 

Advertisements

ایک تحریر زندگی کے نام

صدر ایمپریس مارکیٹ کے عین عقب میں جہاں دن میں پیر رکھنے کی جگہ نہیں ہوتی اس نے خواہ مخواہ ہی بھیڑ لگا رکھی  تھی میں بھی لوگوں کے اس ھجوم کو پھلانگتاپھلانکتا عین اس مقام تک پہنچ گیا جہان بڑی قرینہ سے سجائی گئی رنگ برنگی گولیوں کی بوتلیں غیرملکی اخباروں سے تراشی گئیں  یورپی نزاد ماڈلز کی ہوش  ربا تصاویر سانپ اور سانڈے کی خشک کھالیں اور ان سے تیار کیا گیا  تیل اور ان سب چیزوں کے بیچ و بیچ کھڑا وہ  دیسی سوداگر  ایسے لگ رہا تھا جیسے گویا وہ کوئی موٹیویشنل اسپیکر ہو

عجیب پراسرار سا انسان

ایک ایسا پراسرار سوداگر جو صدا کسی اور چیز کی لگارہا  ہو اور بیچنا کچھ اور چاہتا  ہو

یہ میری زندگی کا وہ دور تھا جب کالج لائف ابھی شروع ہی ہوئی تھی اور میں اپنے  تھوڑے سے علم اور تھوڑے سے تجربے کے ساتھ   دنیا کو سمھجنے کی کوشش کرہا تھا میں کبھی اسکی دکان میں سجی رنگیں گولیوں میں زندگی کے رنگ تلاش کرتا تو کبھی چرائی نظروں سے نیم برہنا ماڈلز کی تصاویر کو دیکھتا اور سوچتا کے شاید یہ ہی زندگی ہے اورپھر جب ان  تصاویرکے درمیان سے گزرتے ہوئے میری نظروہاں رکھی گیئں  سانپ اور سانڈے کی خشک اور بے جان کھالوں سے ٹکراتیں تو میں کچھ سہم سا جاتا کہ کیا کبھی زندگی اتنی خشک اور بد صورت بھی ہوسکتی ہے

میرا زہہن ابھی ان انجانے سوالوں کے جوابات جاننے کی کوشش کرہی رہا تھا کہ

صدا لگانے والے نے صدا لگائی اور مجھ سمیت سارا مجمع اس پراسرار سوداگر کی طرف متوجہ ہوا

سنو لوگوں!

زندگی کسی اولجھے ہوئے سوال کا نام نہیں ہے

 یہ توایک دیکھنے والا منظرہے

ایک سنے والا نغمہ ہے

اپنے لیے اور صرف اپنے لیے جینا چھوڑ کے دوسروں کے لیے جینا زندگی ہے

یہ تو خالق کی عطا ہے

یہ تواس کا ہم پر احسان

زندگی تو بس زندگی ہے

کوئی مشکل معمہ نہیں

 

حرامی اور علی بابا

کہا جاتا ہے جب الفاظ ایک زبان سے دوسری زبان میں منتقل ہوتے ہیں تو کافی حد تک ان کے معنی میں تبدیلی آجاتی ہے لیکن کتنی تبدیلی آتی ہے اس کا عملی تجربہ تب ہوا جب 2006 کی ابتدا میں کویت میں میرا واستہ عربوں اور عربی سے پڑا اگر ہم اپنی قومی زبان اردو کی بات کریں تو یہ بات سب ہی جانتے ہیں کے ہماری قومی زبان اردو میں عربی اور فارسی الفاظ کا استعمال کثرت سے ہے لفظوں کا یہ ہی استعمال عرب دنیا میں رہنے والے ہم پاکستانیوں کے لیےایک پلس پوائنٹ ہے اور میرے نزدیق یہ ہی ایک خاص وجہ کہ عرب ملکوں میں رہنے والے پاکستانی وہاں رہنے والی دیگر غیر عرب اقوام کے مقابلے بہت تیزی کے ساتھ عربی سیکھ جاتے ہیں اور کئی تو ہمارے ہم وطن بھائی ایسے بھی ہیں جن سے گفتگو کے دوران اندازہ ہی نہیں ہوتا کہ وہ غیر عرب ہیں
اب یہ تو ہوا پلس پوائنٹ کا فائدہ اب ایک منفی پہلو یہ ہے کے اردو زبان میں عربی زبان کے کئی الفاظ کے معنی یا مفہوم حرت انگیز طور پر مختلف ہیں اور کئی لفظوں کے بارے میں تو مجھے ایسا گمان ہوتا ہے کہ جیسے ہمارے کرپٹ معاشرے نے ان لفظوں کے معنی خود تبدیل کئے ہوں ویسے تو کئی الفاظ ہیں جن کے معنی یا مفہوم ہم نے تبدیل کردیے ہیں لیکن اس وقت زیادہ نہیں میں صرف دو لفظوں کا زکر کروں گا جن سے ہماری معاشرتی سوچ کی عکاسی ہوتی ہے
ایک لفظ ہےحرامی
اب اس لفظ کو سن کر آپ کے زہہن میں کیا خیال آتا ہے
ہمارے معاشرے کی ایک غلیظ گالی۔۔۔۔
کسی کے فعل بد کا نتیجہ
ایسا بچہ جو۔۔۔۔۔۔۔۔
آپ سمجھ ہی گیے ہونگے
اب یہ بھی سن لیں کہ عربی زبان میں یا عرب دنیا میں حرامی کسے کہتے ہیں
عرب حرامی کہتے ہیں چور کو
عرب معاشرے میں ہر اس انسان پر لفظ حرامی کا اطلاق ہوتا ہے جس کا کسب حرام پر ہو جو کسی بھی صورت حرام کھاتا ہو یعنی چور ہو
اور پتہ ہے جو چوروں سے بھی بڑا چور ہو تواسے عرب کیا کہتے ہیں
تو عربوں میں یہ رواج ہے کہ جب انہیں کسی انسان کے بارے میں یہ رائے دینی ہو کہ یہ انسان تو چوروں کا بھی سردار ہے یعنی سب سے بڑا چور ہے تو عرب ایسے انسان کے لیے علی بابا کا لفظ استعمال کرتے ہیں
دوستوں یادآیا کچھ علی بابا کے نام سے؟
جی ہا یہ وہ ہی علی بابا ہیں کھل جا سم سم والے
علی بابا چالیس چور والے
جسے عربی میں کہتے ہیں
علی باباوالااربعین حرامی
اب بتائیں ہم توساری زندگی علی بابا کوایک ہوشیار آدمی اور اس کہانی کا ہیرو سمھجتے رہے اور عربوں کے لیے وہ چوروں کا سردار ہے یعنی کہانی کا سب سے بڑا چور ہے
ہوسکتا ہے کہ عربوں کے لیے حرام بالاخر حرام ہی ہوتا ہو لیکن شاید آج ہمارے معاشرے ہر حال میں پیسہ کمانا اہم ہوگیا ہے اب وہ کسی بھی زریعے سے ہی کیوں نہ کمایا گیا ہو قابل تعریف ہے حلال سے یا پھر چوروں کو لوٹ کے ہی صحیح

حقوق نسواں اور نسواں

 

ویسے  یہ  حقوق نسواں آخر ہے کیا؟

جتنا مشکل نام اتنا ہی مشکل آج کے میں دور اسکو سمھجنا  ہوگیا ہے

میرے خیال سے اگر ساس بہو کو بیٹی۔۔۔

نند بھابی  ایک دوسرے کو بہنیں۔۔۔

اور مرد دوسرے کی  ماں۔۔۔ بہن ۔۔بیٹی ۔۔بہو ۔۔۔کو اتنا ہی قابل احترام سمجھیں  جتنا وہ  اپنی ماں۔۔ بہن۔۔ بیٹی۔۔ بہو ۔۔کو سمھجتے ہیں  تو حقوق نسواں  کا کوئی مسئلہ ہی نہ ہو

تالی دونوں ہاتھوں سے بجتی ہے  حقوق نسواں کا تحفظ شروع ہوتا گھر سے ۔۔۔

ماں کی گود سے ۔۔۔

احترام اور عزت کے اسباق انسان اپنی ماں کی گود سے سیکھنا شروع کرتا معاشرہ تو بس اس کی تراش خراش کرتا ہے اسکو پالش کرتا اگر ھم  ایک ایسا معاشرہ چاہتے جس میں کسی بھی قسم کی صنفی تقسیم نہ ہو اور جس معاشرہ   میں عورت اور مرد کو مساوی حقوق حاصل ہوں تو مرد  کی تربیت گھر سے شروع ہوگی ماں کی گود سے شروع ہوگی تو پھر ایک ماں کو اپنے پچے کو یہ بتانا ہوگا کہ اس معاشرے میں مرد اور عورت دونوں  برابر ہیں اور کوئی کسی سے کم نہیں

یاد رکھیں قانون صرف حد لگاتا گرفت کرتا معاشرہ نہیں بناتا

معاشرہ یا سوسائیٹی ھم انسان باھم مل کر بناتے ہیں اچھے یا برے  معاشرہ کا تعلق اس میں موجود افراد کی زہنیت سے ہے۔۔۔۔۔۔۔ اور ذہنیت کی نشونما شروع ہوتی ہے ماں کی گود سے۔۔۔۔۔۔۔۔

دیسی پوسٹ پر ایک غیر ملکی کا تبصرہ

 آپ سب ہی دوست احباب جو اس وقت یہ تحریر پڑھ رہے ہیں اور آپ فیس بک یوزر بھی ہیں تو آپ سب کے ہی میری طرح اپنے ھم وطنوں کے علاوہ دوسرے  ممالک سے تعلق رکھنے والے دوست بھی ہونگے گزشتہ دنوں مجھے اپنے ایک کی گئی پوسٹ پر اپنے ایک امریکی دوست کا فیس بک مسینجر کے زریعے کمنٹ موصول ہوا  اسنے میری پوسٹ پر جو تبصرہ  میں چاہتا ہوں کے پبلک ہواور آپ لوگ بھی سنیں اسلیے بلاگ پر لکھنے کا ارادہ کیا  

ہوا یوں کہ کچھ دنوں قبل میرے فرینڈ کی شیر کی گئی ایک تصویری پوسٹ ھم نےبھی شیر کردی  لوگوں نے اس پر کمنٹ بھی کیا اور ایک دو دوستوں نے اسے شیئر بھی کردیا پوسٹ ہونے کہ کچھ دنوں بعد  مجھے میرے امریکی فیس بکی دوست کا اس پوسٹ پر کمنٹ موصول ہوا

یہ کون لوگ ہیں shemale  کیا یہ تیسری جنس کے لوگ ہیں کیا تمھارے ملک میں تیسری جنس کے لوگ ایسے ہوتے ہیں

اس کے سوال کو میں کچھ سمجھ نہیں پایا کیونکہ میں نے shemale کے حوالہ سے کوئی پوسٹ نہیں کی تھی اسلیے اس لیے میں نے اسے کہا کہ لنک پوسٹ کرے تاکہ مجھے پوسٹ یاد آجائے وہ صاحب کمال کے متجسس انسان تھے وہ پوسٹ انہوں نے پہلے سے ہی کوپی کی ہوئی تھی سو انھوں نے مجھے فورا ہی وہ پوسٹ میسج کردی

ہش یہ تصویر حد تیرے کی گورے بھی بڑے کمال لوگ ہوتے ہیں ان کے لیے وہ موضوع ذیادہ اہم ہوتا ہے جو دنیا کے لیے شاید ھلکا پھلکا ٹائم پاس ہو

تو دوستوں یہ تصویر تھی ھمارے ملک تین بڑے سیاستدانوں کی جنھیں مزاق کے طور پر فوٹو شاب میں ایڈٹ کرکے خواتین کا لباس پہنایا گیا تھا انکے سروں پر لمبے بالوں والی وگ لگائی گئی تھی انکے چہرے کو میک اپ کے انداز سے رنگا گیا تھا

میں نے تصویر پہچانتے ہی اسے اس پوسٹ کے حوالہ سے آگاہ کیا کہ یہ ھمارے ملک کی تین اھم سیاسی شخصیات ہیں اس پر اس نے سوال کیا کہ تمھارے ملک کے سیاستدان عورتوں کا لباس پہنتے ہیں میں نے جواب میں کہا کہ نہیں ایسی کوئی بات نہیں یہ  ایڈٹ کی گئی تصویر ہے اصل میں یہ شخصیات ایسی نہیں اب میرے دوست اگلا سوال یہ تھا کہ کیا تمھارے ملک کے لوگ انھیں پسند نہیں کرتے کیا یہ بہت برے لوگ ہیں میں جواب میں عرض کیا نہیں یہ ھمارے ملک کے بڑے سیاسی نام ہیں ان میں ایک صاحب حکومت کرچکے دوسرے کر رہیے ہیں اور تیسرے صاحب کا کرنے کا اردہ ہے  یہ تو بس لوگوں کا ان سے پیار کرنے کا انداز ہے

بہرحال اس نے جواب میں کہا بڑا ہی بھونڈا انداز ہے اس طرح کسی انسان تصویر صرف اسلیے مضحکہ خیز بنانا جس سے اسکی زات کی تزلیل ہو یہ ایک بہت غیر اخلاقی حرکت ہے  

خواتین و حضرات اگر آپ فیس بک یوزر ہیں تو مختلف سیاسی شخصیات کھلاڑیوں یا مزہبی شخصیات کی ایڈٹ کی گئی تصویریں آپکی نظرسے بھی ضرور گزری ہونگی کیا یہ صیح کہ صرف چند سو لائک پانے کےلیے  ھم کسی بھی انسان کی تصویر کو اس حد تک بگاڑ لیں کے وہ مضحکہ خیز بن جائے کیا اسی تصویروں کو بنانا یا شیئر کرنا جہالت نہیں     

ایک تھا بادشاہ


دوستوں یہ بچپن بھی کتنا خوبصورت ہوتا ہے اور اس سے بھی بڑھ کر حسین ہوتی ہیں اس سی جڑی یادیں ۔۔ انسان کا بچپن امیری میں گزرے یا پھر غربت کے اندھیروں میں بہرحال اس سے جڑی کئی ایسی حسین یادیں ضرور ہوتی ہیں جن کی خوشبو  ھمیشہ ھمارے تصورات کو مہکاتی رہتی ہیں یہ یادیں اور ان یادوں سے جڑے لوگ ھمیں ھمیشہ یاد رہتے ہیں
ھمارے ماضی سے جڑی یادیں کبھی تصویروں کی شکل میں تو کبھی اپنی کسی بہت ہی پیارے کی پیار بھرے آواز کی گونج بن کے ھمارے کبھی نہ بھولنے والے لاشعور کا حصہ بن جاتی ہیں
 
اس وقت ایسے ہی اپنے  ایک پیارے کی پیار بھری آواز کی گونج میرے کانوں میں گونج رہی ہے اس کا شفیق چہرہ نظر کے سامنے ایسے ہی ہے جیسے گویا وہ میرے پاس ہی ہو اس شفیق چہرے کی یاد میں گم اور اسکی پیارے بھری آواز کی گونج کا تعاقب کرتے کرتے میں اس وقت اپنے ماضی کے اس حسین دور میں چلا گیا ہوں جہاں ایک سات سال کا بچہ اپنی شفیق دادی کی گود میں سر رکھے اپنی پیاری دادی سے کہانی سننے کے لیے بیتاب ہے
اور دادی بڑے ہی پیار سے اس بچے کے سر کے بالوں کو سہلاتے ہوئے اپنی کہانی آغاز کرتی ہیں
سنو بیٹا ایک تھا بادشاہ جیسا ھمارا تمھارا خدا بادشاہ
دادی یہ بادشاہ کیا ہوتا ہے
بیٹا یہ جو بادشاہ ہوتا ہے نا یہ اپنی رعایا کا بہت خیال رکھتا ہے انھیں بہت پیار کرتا ہے
کیسا خیال دادی
انکے کھانے کا انکے لیے اچھے اچھے کپڑوں کا ان دکھ درد میں ان کا ساتھ دینے کا ایسا خیال بیٹا
تو پھر ایسا ہی ھمارے تمھارا خدا بادشاہ ہے
دادی سے کہانیاں سنے ہوئے تیس سال کا عرصہ گزر گیا اور انکی سنائی ہوئی کہانیوں میں مجھے آج  شاید کوئی ایک بھی مکمل یاد نہ ہو پر یہ ایک لائن مجھے آج تک یاد ہے اور اسکی خاص وجہ یہ ہوسکتی ہے کہ ھماری دادی جب بھی ھمیں کہانی سناتی تو اپنی کہانی کا آغاز اس جملے پر کرتیں کہ ایک تھا بادشاہ جیسا ھمارا تمھارا خدا بادشاہ
آج جب میں سوچتا ہوں تو بڑا حیران ہوتا ہوں کہ کس کمال خوبصورتی سے بچپن میں میری شفیق دادی نے ایمان اور توکل کا بیج میری ننے سے دل پر لگایا جس کی حرارت  میں آج تک محسوس کرتا ہو بے شک میرے رب سے میرا پہلا تعارف میری دادی نے ہی کروایا تھا اور  یہ میرے نزدیک اللہ پہ توکل کی سب سے آسان تعریف ہے

مل جل کے

دوستوں اگر بات شادی بیاہ کی ہو تو صدیوں سے  رشتہ مل جل کے ہی تہ پاتے آرہے ہیں  ہاں یہ بات ضرور ہے کہ تیزی سے بدلتے زمانے کے ساتھ  طریقے بدل گئے ہیں  تو پہلے ہم بات  کرتے ہیں

مل جل کے نمبر ایک

مل جل کے طریقہ نمبر ایک ایک قدیم اور سب سے ذیادہ قابل اعتبار اور  پائیدار طریقہ کار ہے  اس طریقے میں لڑکے اور لڑکی کے والدین آپس  میں مل جل کےرشتہ  تہ کرتے ہیں اور  اس میں بڑوں کی پسند کا عمل دخل ذیادہ ہوتا ہے اور اس طریقے کی خصوصیت یہ ہے کہ والدین چونکہ کے تجربہ کار ہوتے ہیں اور

انھوں نے زندگی کے نشیب و فراز کو بہت قریب سے دیکھا ہوتا ہے اور بحیثیت والدین وہ اپنی اولاد  کے مزاج سے بھی واقف ہوتے ہیں تو ان کی پوری کوشش ہوتی ہے وہ اپنے بیٹے یا بیٹی کے لیے ایسے شریک حیات کا انتخاب کریں جو ان کے گھر انکے ماحول انکے طورطریقوں انکے معاشی حالات سے ہم آہنگ ہو  اسیلیے مل جل کے نمبر ایک کے طریقہ پر کی گئی  شادیوں کی کامیابی کےنتائج باقی طریقوں کے مقابلے میں کئی گنا بہتر ہوتے ہیں

مل جل کے نمبر دو

جیسا کہ نام سے ہی ظاہر ہے کہ یہ دونمبر طریقہ لیکن آج کل اس طریقہ پر ہونے والی شادیوں کا چرچہ بھی عام ہے بحرحال یہ طریقہ کسی طور بھی قابل بھروسہ نہیں  اور اس سے بچنے میں ہی انسان کی عافیت ہے اور یہ میری زاتی رائے نہیں بلکہ حقائق پر مبنی ایک تلخ حقیقت ہے کہ اس طریقے پر کی گئ شادیوں کی کامیابی کے امکانات پچاس فیصد سے بھی کم ہوتے ہیں اور بعض اوقات تو اس طریقے پر کی گئیں شادیاں ایک سال بھی نہیں چل پاتیں میری اتنی وضاحت کرنے پر   اب تو آپ یہ سمھج ہی گئے ہونگے کہ یہ مل جل کے نمبر دو طریقہ ہے کیا ؟

جی جناب بلکل صحیح سمھجے آپ یعنی مل جل کے نمبر دو طریقے میں لڑکا لڑکی خود ہی مل جل ایک دوسرے کو پسند کرلیتے ہیں زندگی ساتھ گزارنے کے عہدوپیما بھی ہوجاتے ہیں اور اس کا دونمبر پہلو یہ ہے کہ خودہی مل جل کے شادی بھی کرلیتے ہیں اور بعد میں اسکی اطلاع والدین کو دیدی جاتی ہے جسے اگر عرف عام میں کہا جائے تو بھاگ کے کی جانے والی شادی کہا جاسکتا ہے ویسے آج تک مجھے یہ بات سمجھ میں نہیں آئی کہ اس طریقے پر کی جانے والی شادی کو بھاگ کے کی جانے والی شادی کیوں کہتے ہیں جیسے  لڑکا لڑکی اس میں  بھاگتے بھاگتے قاضی کے پاس جاتے ہوں اور پھر قاضی بھاگتے بھاگتے نکاح پڑھاتا ہو

مل جل کے نمبر تین

گو کہ یہ مل جل کے نمبر تین طریقہ ہے پر پھر بھی نمبر دو سے کافی  بہتر ہے اس طریقے پر عمل کرنے والے حقیقی معنوں میں اس قابل ہوتے ہیں جن سے محبت کی جائے یا وہ کسی سے محبت کریں یہ وہ لوگ ہوتے جو یہ جانتے ہیں کے محبتیں کیا ہوتی ہیں اور انھیں کیسے نبھایا جاتا ہے اس طریقے پر عمل کرنے والے لوگ اگر ایک دوسرے کو پسند کر لیں تو اس کا اظہار  اپنے والدین سے  کردیتے ہیں اگر والدین  کی پسند شامل ہوگئی تو پھر ہوگیا منہ میٹھا اگر نہیں تو پھر یہ والدین کے فیصلہ کا احترام کرتے ہوئے خاموشی اختیار کرلیتے ہیں یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جو کسی نئی محبت کو پانے کے لیے اپنوں کی دی ہوئی پرانی محبتیں نہیں بھولتے اور وہ یہ بھی جانتے ہیں کہ شادی ایک نیک کام ہے اور نیک کاموں کو کبھی بھی دونمبر طریقے سے نہیں کیا جاتا ک