جہاد اکبر

انگریزی زبان کی ایک بہت مشہور ضرب المثل ہے

DO what you love

love what you do

اگر ہم اس ضرب المثل کا اردو میں ترجمعہ کرنا چاہیں تو کچھ اس طرح کریں گے کہ

آپ وہ پیشہ اختیار کریں جس سے آپ کو فطری محبت ہو

یا پھر آپکی قسمت نے آپ کو جس پیشہ سے بھی منسلک کردیا آپ اسے ہی اپنی محبت بنالیں

میں جب بھی اس انگریزی کہاوت کے بارے میں سوچتا ہوں تو میرے دل میں یہ ہی خیال آتا ہے کہ  انگریزوں یا پھر ترقی یافتہ ممالک کے لوگوں کے لیے شاید اس پر عمل کرنا آسان ہو وہ معاشرہ اور ہے انکا زندگی کو دیکھنے کا زاویہ ہم سے بہت مختلف ہے

ھمارے معاشرہ ہماری ترجیہات اور ہیں

ہم فرائض اور زمہ داریوں کے بیچ جینے والی قوم ہیں جس پہ مجھے فخر ہے

ہمارے معاشرے جب کوئی بیٹا یا بیٹی جوان ہوتے ہیں تو انکی آولین کوشش یہ ہوتی کسی طرح محنت کرکے اپنے ماں باپ کا سہارہ بنے جن ماں باپ نے مزدوریاں کرکے دن رات کی تکلیفیں اٹھا کر انکی پرورش کی ان کو پالا پوسا اب یہ وقت ہے کہ وہ انکو کچھ معاشی سکون اور خوشیاں دے سکے اور پھر وہ یہ نہیں دیکھتے کہ وہ کیا چاہتے ہیں بس وہ یہ دیکھتے ہیں کہ وہ کس طرح اپنے گھر میں خوشحالی لا سکتے ہیں اگر میں پردیس کی مثال دوں تو میں نے کئی ایسے نوجوانوں کو دیکھا ہے جو ماں باپ کی آنکھ کے تارے گھر کے لاڈلے ایسے جنہوں نے کبھی شاہد اپنے گھر میں اٹھ کر ایک گلاس پانی نہ پیا ہو ایسے نوجوانوں کو میں پردیس میں نے مزدور ڈرائیور اور رسٹورنٹ میں ویٹر تک بنے دیکھا اور اگر ان سے سوال کیا جائے اتنی سخت محنت کا مزدوری کا اس اعصاب شکن محنت کا تو جواب بس ایک ہی آتا ہے اور وہ بس لاجواب کردیتا ہے

کہ اگر ایک انسان کی پردیس میں تکلیف اٹھانے سے اگر اپنے وطن میں پانچ سے ساتھ  افراد  عزت اور سکون سے زندگی گزار رہیے ہیں تو کیا برائی ہے اس تکلیف میں

یہ تو پردیس کی بات ہوئی ہمارے  ملک میں بھی ایسے لوگوں کی کمی نہیں ہے  تو میں بات کرہا تھا کہ ہم فرائض اور زمہ داریوں کے بیچ جینے والے لوگ ہیں ہمارے لیے ہمارا شوق اتنا اہمیت نہیں رکھتا جتنے ہمارے لیے ہمارے فرائض اہم ہوتے ہیں ان تمام حقائق کے ساتھ ساتھ میں کئی ایسے لوگوں کو بھی جانتا ہوں جو اپنے فرائض بھی نبھارہے ہیں اور اپنا شوق بھی پورا کر رہے ہیں جو بزنس مین ہیں اور اچھے شاعر بھی ہیں ویٹر ہونے کے ساتھ ساتھ گٹار بھی اچھا بجا لیتے ہیں بنک کی نوکری کرتے ہیں  اور اچھے خاصے ادیب بھی  ہیں

تو میں اپنے نوجوانوں سے بھی یہ ہی کہونگا کہ آپ بھی اگر کوئی خواب رکھتے ہیں تو رکھیں خواب دیکھنا کوئی بوری بات نہیں پر اپنے فرائیض کو نہ بھولیں سب سے پہلے اپنے ماں باب کا سہارہ بنیں محنت کریں انھیں خوشیاں دیں اور ساتھ ساتھ اپنے شوق کو بھی ساتھ لیکر چلیں

کیونکہ

کوئی بھی آدمی اس وقت تک بڑا نہیں بن سکتا جب تک کے وہ ایک اچھا انسان نہ بنے

 

Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s