ایک تحریر زندگی کے نام

صدر ایمپریس مارکیٹ کے عین عقب میں جہاں دن میں پیر رکھنے کی جگہ نہیں ہوتی اس نے خواہ مخواہ ہی بھیڑ لگا رکھی  تھی میں بھی لوگوں کے اس ھجوم کو پھلانگتاپھلانکتا عین اس مقام تک پہنچ گیا جہان بڑی قرینہ سے سجائی گئی رنگ برنگی گولیوں کی بوتلیں غیرملکی اخباروں سے تراشی گئیں  یورپی نزاد ماڈلز کی ہوش  ربا تصاویر سانپ اور سانڈے کی خشک کھالیں اور ان سے تیار کیا گیا  تیل اور ان سب چیزوں کے بیچ و بیچ کھڑا وہ  دیسی سوداگر  ایسے لگ رہا تھا جیسے گویا وہ کوئی موٹیویشنل اسپیکر ہو

عجیب پراسرار سا انسان

ایک ایسا پراسرار سوداگر جو صدا کسی اور چیز کی لگارہا  ہو اور بیچنا کچھ اور چاہتا  ہو

یہ میری زندگی کا وہ دور تھا جب کالج لائف ابھی شروع ہی ہوئی تھی اور میں اپنے  تھوڑے سے علم اور تھوڑے سے تجربے کے ساتھ   دنیا کو سمھجنے کی کوشش کرہا تھا میں کبھی اسکی دکان میں سجی رنگیں گولیوں میں زندگی کے رنگ تلاش کرتا تو کبھی چرائی نظروں سے نیم برہنا ماڈلز کی تصاویر کو دیکھتا اور سوچتا کے شاید یہ ہی زندگی ہے اورپھر جب ان  تصاویرکے درمیان سے گزرتے ہوئے میری نظروہاں رکھی گیئں  سانپ اور سانڈے کی خشک اور بے جان کھالوں سے ٹکراتیں تو میں کچھ سہم سا جاتا کہ کیا کبھی زندگی اتنی خشک اور بد صورت بھی ہوسکتی ہے

میرا زہہن ابھی ان انجانے سوالوں کے جوابات جاننے کی کوشش کرہی رہا تھا کہ

صدا لگانے والے نے صدا لگائی اور مجھ سمیت سارا مجمع اس پراسرار سوداگر کی طرف متوجہ ہوا

سنو لوگوں!

زندگی کسی اولجھے ہوئے سوال کا نام نہیں ہے

 یہ توایک دیکھنے والا منظرہے

ایک سنے والا نغمہ ہے

اپنے لیے اور صرف اپنے لیے جینا چھوڑ کے دوسروں کے لیے جینا زندگی ہے

یہ تو خالق کی عطا ہے

یہ تواس کا ہم پر احسان

زندگی تو بس زندگی ہے

کوئی مشکل معمہ نہیں

 

Advertisements

ایک تحریر زندگی کے نام” پر 2 خیالات

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s