دیسی پوسٹ پر ایک غیر ملکی کا تبصرہ

 آپ سب ہی دوست احباب جو اس وقت یہ تحریر پڑھ رہے ہیں اور آپ فیس بک یوزر بھی ہیں تو آپ سب کے ہی میری طرح اپنے ھم وطنوں کے علاوہ دوسرے  ممالک سے تعلق رکھنے والے دوست بھی ہونگے گزشتہ دنوں مجھے اپنے ایک کی گئی پوسٹ پر اپنے ایک امریکی دوست کا فیس بک مسینجر کے زریعے کمنٹ موصول ہوا  اسنے میری پوسٹ پر جو تبصرہ  میں چاہتا ہوں کے پبلک ہواور آپ لوگ بھی سنیں اسلیے بلاگ پر لکھنے کا ارادہ کیا  

ہوا یوں کہ کچھ دنوں قبل میرے فرینڈ کی شیر کی گئی ایک تصویری پوسٹ ھم نےبھی شیر کردی  لوگوں نے اس پر کمنٹ بھی کیا اور ایک دو دوستوں نے اسے شیئر بھی کردیا پوسٹ ہونے کہ کچھ دنوں بعد  مجھے میرے امریکی فیس بکی دوست کا اس پوسٹ پر کمنٹ موصول ہوا

یہ کون لوگ ہیں shemale  کیا یہ تیسری جنس کے لوگ ہیں کیا تمھارے ملک میں تیسری جنس کے لوگ ایسے ہوتے ہیں

اس کے سوال کو میں کچھ سمجھ نہیں پایا کیونکہ میں نے shemale کے حوالہ سے کوئی پوسٹ نہیں کی تھی اسلیے اس لیے میں نے اسے کہا کہ لنک پوسٹ کرے تاکہ مجھے پوسٹ یاد آجائے وہ صاحب کمال کے متجسس انسان تھے وہ پوسٹ انہوں نے پہلے سے ہی کوپی کی ہوئی تھی سو انھوں نے مجھے فورا ہی وہ پوسٹ میسج کردی

ہش یہ تصویر حد تیرے کی گورے بھی بڑے کمال لوگ ہوتے ہیں ان کے لیے وہ موضوع ذیادہ اہم ہوتا ہے جو دنیا کے لیے شاید ھلکا پھلکا ٹائم پاس ہو

تو دوستوں یہ تصویر تھی ھمارے ملک تین بڑے سیاستدانوں کی جنھیں مزاق کے طور پر فوٹو شاب میں ایڈٹ کرکے خواتین کا لباس پہنایا گیا تھا انکے سروں پر لمبے بالوں والی وگ لگائی گئی تھی انکے چہرے کو میک اپ کے انداز سے رنگا گیا تھا

میں نے تصویر پہچانتے ہی اسے اس پوسٹ کے حوالہ سے آگاہ کیا کہ یہ ھمارے ملک کی تین اھم سیاسی شخصیات ہیں اس پر اس نے سوال کیا کہ تمھارے ملک کے سیاستدان عورتوں کا لباس پہنتے ہیں میں نے جواب میں کہا کہ نہیں ایسی کوئی بات نہیں یہ  ایڈٹ کی گئی تصویر ہے اصل میں یہ شخصیات ایسی نہیں اب میرے دوست اگلا سوال یہ تھا کہ کیا تمھارے ملک کے لوگ انھیں پسند نہیں کرتے کیا یہ بہت برے لوگ ہیں میں جواب میں عرض کیا نہیں یہ ھمارے ملک کے بڑے سیاسی نام ہیں ان میں ایک صاحب حکومت کرچکے دوسرے کر رہیے ہیں اور تیسرے صاحب کا کرنے کا اردہ ہے  یہ تو بس لوگوں کا ان سے پیار کرنے کا انداز ہے

بہرحال اس نے جواب میں کہا بڑا ہی بھونڈا انداز ہے اس طرح کسی انسان تصویر صرف اسلیے مضحکہ خیز بنانا جس سے اسکی زات کی تزلیل ہو یہ ایک بہت غیر اخلاقی حرکت ہے  

خواتین و حضرات اگر آپ فیس بک یوزر ہیں تو مختلف سیاسی شخصیات کھلاڑیوں یا مزہبی شخصیات کی ایڈٹ کی گئی تصویریں آپکی نظرسے بھی ضرور گزری ہونگی کیا یہ صیح کہ صرف چند سو لائک پانے کےلیے  ھم کسی بھی انسان کی تصویر کو اس حد تک بگاڑ لیں کے وہ مضحکہ خیز بن جائے کیا اسی تصویروں کو بنانا یا شیئر کرنا جہالت نہیں     

Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s