حقوق نسواں اور نسواں

 

ویسے  یہ  حقوق نسواں آخر ہے کیا؟

جتنا مشکل نام اتنا ہی مشکل آج کے میں دور اسکو سمھجنا  ہوگیا ہے

میرے خیال سے اگر ساس بہو کو بیٹی۔۔۔

نند بھابی  ایک دوسرے کو بہنیں۔۔۔

اور مرد دوسرے کی  ماں۔۔۔ بہن ۔۔بیٹی ۔۔بہو ۔۔۔کو اتنا ہی قابل احترام سمجھیں  جتنا وہ  اپنی ماں۔۔ بہن۔۔ بیٹی۔۔ بہو ۔۔کو سمھجتے ہیں  تو حقوق نسواں  کا کوئی مسئلہ ہی نہ ہو

تالی دونوں ہاتھوں سے بجتی ہے  حقوق نسواں کا تحفظ شروع ہوتا گھر سے ۔۔۔

ماں کی گود سے ۔۔۔

احترام اور عزت کے اسباق انسان اپنی ماں کی گود سے سیکھنا شروع کرتا معاشرہ تو بس اس کی تراش خراش کرتا ہے اسکو پالش کرتا اگر ھم  ایک ایسا معاشرہ چاہتے جس میں کسی بھی قسم کی صنفی تقسیم نہ ہو اور جس معاشرہ   میں عورت اور مرد کو مساوی حقوق حاصل ہوں تو مرد  کی تربیت گھر سے شروع ہوگی ماں کی گود سے شروع ہوگی تو پھر ایک ماں کو اپنے پچے کو یہ بتانا ہوگا کہ اس معاشرے میں مرد اور عورت دونوں  برابر ہیں اور کوئی کسی سے کم نہیں

یاد رکھیں قانون صرف حد لگاتا گرفت کرتا معاشرہ نہیں بناتا

معاشرہ یا سوسائیٹی ھم انسان باھم مل کر بناتے ہیں اچھے یا برے  معاشرہ کا تعلق اس میں موجود افراد کی زہنیت سے ہے۔۔۔۔۔۔۔ اور ذہنیت کی نشونما شروع ہوتی ہے ماں کی گود سے۔۔۔۔۔۔۔۔

Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s