میری کتاب ہم تو چلے پردیس کا تعارف

ھم تو چلے پردیس

کچھ اس کتاب کے بارے میں

ھمارے ملک کے اکثر لوگ فکر معاش کے سلسلے میں دنیا کے مختلف ممالک میں میں مقیم ہیں جن کی اکثریت خلیج امریکہ انگلینڈ چاپان جنوبی افریقہ یورپ اور دنیا کے مختلف علاقوں میں مقیم ہے جنہیں ھم overseas pakistanis  کے نام سے جانتے ہیں اور انہیں overseas pakistanis کی آمدنی سے حکومت پاکستان ایک بڑا ریونیو جنریٹ کرتی ہے اس موقع پر میرا یہ کہنا بلکل غلط نہ ہوگا کہ ھمارے یہ overseas pakistani دیار غیر میں رھکر نہ صرف اپنے معاشی حالات بہتر کرنے کی کوشس کر رہے ہیں بلکہ ساتھ ساتھ اپنے ملکی معیشت کو بہتر کرنے کے بھی اپنا ایک اھم رول نبھا رہے ہیں

میرا اس کتاب کو لکھنے کا مقصد کسی طور پر بھی اپنے ھم وطنوں کو پردیس جانے کے لیے موٹیویٹ کرنا نہیں ہے بلکہ اس کتاب کو لکھنے کا مقصد اپنے ان نوجوانوں کو ایک رہنمائی فراھم کرنا ہے جو پہلے ہی ملک سے باہر جاکر اپنی قسمت آزمانے کا فیصلہ کر چکے ہیں اور جو یہ سمھجتے ہیں کہ وہ ملک سے باہر جاکر اپنوں اور اپنوں کی بہتر انداز میں خدمت کرسکتے ہیں

Advertisements